eitaa logo
انتفاضه فلسطین، محسن فایضی
5.6هزار دنبال‌کننده
6.3هزار عکس
2.1هزار ویدیو
16 فایل
فلسطین را با طعم متفاوت دنبال کنید
مشاهده در ایتا
دانلود
🔴 ایهود باراک، نخست‌وزیر سابق صهیونیست‌ها: اسرائیل مصمم است بیمارستان الشفاء در غزه را بمباران کند. اسرائیل در روز گذشته حداقل ۳ باز پیام هشدار به این بیمارستان مهم ارسال کرده است @Thirdintifada
روایت مسعود صدر از آنکارا @Thirdintifada
5.8M حجم رسانه بالاست
مشاهده در ایتا
نقاشی دیواری هنرمند بحرینی و البته پایانی.... @Thirdintifada
تیم الهلال عربستان بدلیل وجود چفیه فلسطینی در این تصویر مجبور به حذف عکس فوق حساب کاربری باشگاه شد! دلیل این موضوع جلوگیری از آمیختن سیاست به ورزش اعلام شده است! @Thirdintifada
♦️ناامیدی فلسطینیان از راه‌حل دوکشوری ✍️ احسان کیانی 🗓 ۲۹ مهر ۱۴۰۲ 🔹 روند نظرسنجی‌های «مؤسسه گالوپ» از فلسطینیان که ۲۶ مهر ۱۴۰۲ منتشر شده، نشان می‌دهد که اکثریت فلسطینیان در کرانه باختری، غزه و شرق بیت‌المقدس؛ از تحقق راه‌حل دوکشوری نااُمید هستند. گفتنی است که این نظرسنجی با جامعه آماری ۱۰۰۰ نفر از ۱۲ ژوئیه تا ۳۰ سپتامبر ۲۰۲۳ و اندکی پیش از وقوع عملیات طوفان‌الاقصی، انجام شد. 🔸 در سال ۲۰۱۲، نزدیک به ۶۰ درصد از مردم فلسطین از راه‌حل دوکشوری حمایت می‌کردند ولی این میزان در سپتامبر ۲۰۲۳ به کمتر از ۲۵ درصد رسیده و بیش از ۷۰ درصد جامعه فلسطین مخالف این راه‌حل هستند. 🔹 گفتنی است که طبق این نظرسنجی، تنها ۱۳ درصد فلسطینیان به تحقق صلح دائمی میان فلسطین و اسرائیل امیدوار هستند. میزان نااُمیدی از تحقق صلح دائمی میان حکومت اسرائیل و ملت فلسطین، از ۶۸ درصد در ۲۰۱۱ به بیش از ۸۰ درصد در ۲۰۲۳ افزایش یافته که می‌توان رد پای کارنامه راست‌گرایان صهیونیست در تل‌آویو را در آن دید که به تشدید نبردهای غزه و هم‌چنین تقویت مقاومت در کرانه باختری انجامیده است. 🔸 میزان مخالفت با راه‌حل دوکشوری، در نوجوانان و جوانان، بیشتر از بزرگ‌سالان است. میزان حمایت از این راه‌حل در بازه‌های سنی متفاوت جامعه فلسطین، به این ترتیب است. 📶 ۱۵ تا ۲۵ سال؛ ۱۶ درصد 📶 ۲۶ تا ۳۵ سال؛ ۲۳ درصد 📶 ۳۶ تا ۴۵ سال؛ ۲۸ درصد 📶 ۴۶ ساله به بالا؛ ۳۴ درصد ✅ شکاف نسلی میان جوانان فلسطینی با کهن‌سالان، یادآور پیچیدگی و دشواری تحقق راه‌حل دوکشوری در آینده خواهد بود. این چرخش نسلی نشان‌گر پیامدهای تداوم اشغال‌گری و نژادپرستی رژیم اسرائیل است که با نااُمیدی از راه‌حل دوکشوری، به یارگیری مقاومت فلسطین از جوانان در آینده خواهد انجامید. بنابراین بازیگرانی که درصدد حل دائمی مسأله از طریق دیپلماتیک هستند، می‌بایست به راه‌حل دیگری بیندیشند که در کنار جلوگیری از تشدید نبرد، امکان تشکیل یک کشور واحد در تمامی گستره سرزمینی فلسطین را با حقوق شهروندی برابر میان یهودیان و اعراب، تضمین کند./ اشراق @Thirdintifada
انتفاضه فلسطین، محسن فایضی
اسیر فلسطینی، رویای آزادی چرا آزادی اسرای فلسطینی یکی از دلایل طوفان‌الاقصی است؟ متن: محسن فائضی خ
یکی از همراهان اردو زبان کانال، پادکست حول اسرا را به اردو ترجمه کرده اند. اینجا قرار میدم تا دیگر اردو زبان های همراه کانال و دیگران از آن استفاده کنند ⬇️
*"فلسطینی قیدی اور خواب آزادی"* تحریر: جناب محسن فایضی( کارشناس مسائل فلسطین) https://t.me/Thirdintifada ترجمہ: محمد کمیل شہیدی *آخر کیوں طوفان الاقصی آپریشن کی ایک اہم وجہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی ہے؟!* یقینا آپ نے سنا ہوگا کہ 7 اکتوبر (2023) کی صبح ساڑھے سات بجے حماس کے فوجی کمانڈر محمد ضیف نے ایک تفصیلی آڈیو پیغام جاری کیا۔ انہوں نے اس آڈیو پیغام میں، جاری آپریشن کی وجوہات، قسامی سپاہیوں، عرب عوام اور اسلامی ممالک کو ہدایات دینے کے ساتھ ساتھ اس آپریشن کا نام بھی انتخاب کیا یعنی طوفان الاقصیٰ۔ محمد ضعیف نے اپنے اس بیان میں طوفان الاقصی آپریشن کی ایک اہم وجہ اسرائیلی جیلوں میں بند فلسطینوں کی رہائی بتلایا۔ ضیف نے آڈیو بیان میں کہا "اس وقت درجنوں ہمارے فلسطینی قیدی بھائی ہیں جو 20 20 سال سے جیلوں میں بند ہیں، دسیوں ایسے زن و مرد قید میں ہیں جو اس وقت کینسر سے جنگ لڑ رہے ہیں، یہ اس صورتحال حال میں ہے جبکہ قیدیوں کی ایک بڑی تعداد بیماری، صیہونیوں کی دانستہ لاپرواہی اور بے توجہی کی وجہ سے جیلوں میں ہی جاں بحق ہو چکی ہے، جو کہ یقیناً ایک جان بوجھ کر خاموشی سے کی جانے والی قتل کشتار ہے، اس کے باجود بھی قیدیوں کے مبادلہ کی ہماری درخواست کو صہیونینوں کی جانب سےسختی کے ساتھ رد کر دیا گیا ہے۔" 6 قاتلانہ حملوں میں بچ جانے والے محمد ضعیف کی تقریر کا یہ آخری جملہ اسرائیلیوں کی جانب سے چار اسرائیلی قیدیوں کے ، فلسطینی اسرا کے تبادلے سے انکار کی وجہ سے تھا۔ حماس اور مقاومتی تنظیموں نے بارہا کہا ہے کہ وہ اپنے قیدی ساتھیوں اور ہم وطنوں کی رہائی کے لیے پرعزم اور ذمہ دار ہیں۔ **فلسطینی قیدی اتنے اہم کیوں ہیں؟* اس تحریر کے لکھے جانے تک 5134 فلسطینی اسرائیل کی 22 جیلوں میں قید ہیں۔ یہ جاننا آپ کے لیے تعجب کا باعث ہوگا کہ 588 افراد کو عمر قید جبکہ تقریباً اتنی ہی تعداد کو 30 سے ​​40 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان 5134 قیدیوں میں سے تقریباََ 1,000 لوگ شاید کبھی بھی اپنے گھر کے دروازوں کا رنگ تک نہیں دیکھ پائیں گے... ان قیدیوں کو کبھی بیل بھی نہیں ملتی، یہاں تک کے جن فلسطینیوں کو فیس بک community guideline کے خلاف پوسٹ کرنے کی وجہ سے ملزم ٹھہرایا جاتا ہیں انہیں بھی جنگی اسیروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اور ہاں اسرائیلی جیلوں میں ملاقات کرنے والوں کے لئے بھی الگ ہی قوانين ہیں؛ _ صرف غیر دہشت گرد قیدیوں کو ہی ملاقات کا حق ہے، یعنی ان 5134 افرد میں سے صرف 1600 لوگوں کو۔ _ ہر دو مہینے میں صرف ایک ملاقات۔ _قیدی کے صرف بیوی/ شوہر، بچے یا والدین ہیں ہی حق ملاقات رکھتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ اسراء دوستوں سے نہیں مل سکتے، یہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھی نہیں دیکھ سکتے۔ _ملاقات کا طریقہ بھی بڑا عجیب و غریب صرف شیشے کے اُس پار سے۔ _اجازت ملنے کی صورت میں صرف 70 سال سے زائد بوڑھوں اور 7 سال سے کم عمر کے بچے ہی قیدیوں سے حضوری ملاقات کرسکتے ہیں۔ ان عجیب و غریب قوانین کی وجہ سے کچھ قیدی برسوں تک بغیر ملاقات کے قید خانوں گذار دیتے ہیں اور خواب دیدار کی حسرتیں سجائے رہتے ہیں۔ آپ قیدیوں کے استقبال کی کلپس اور ویڈیوز کو ضرور دیکھا کرو جہاں قیدیوں کے اپنے اہل خانہ سے ملنے کا انداز انسان کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ آخر میں یہ بتلاتے چلیں کہ اسرائیل دنیا کی واحد حکومت ہے جس کی قانونی کتاب میں 14 سال سے کم عمر فلسطینیوں کو سزا اور جیلوں میں بند کرنے کا قانون موجود ہے۔ اسرائیلی جیلوں میں شہید ہونے والے 233 فلسطینیوں کی خوشنودئ روح کے لئے صلوات ۔ @Thirdintifada
✅گذرگاه رفح ساعت 10 صبح بازخواهد شد سفارت آمریکا در فلسطین اشغالی اعلام کرد که گذرگاه زمینی رفح بین مصر و نوار غزه ساعت 10 صبح امروز به وقت محلی بازگشایی خواهد شد. @Thirdintifada